سیاہ قوانین اور جمہوریت کے درخشاں پہلو

0
Draconian laws and grandeur of Democracy
226 Views

Citizenship Bill shows Muslim hostility of government

ناظم الدین فاروقی

(اسکالر ، تجزیہ نگار ،  کالمنویس ،اوپینین لیڈر اور سماجی جہد کار)


ہندوستان  تاریخ  کے ایک  اضطراب  آمیز  و الجھن کے دور سے گذر رہا ہے ۔ یہ بات بڑی خوش آئیند  ہے کہ  ملک میں اب  بھی جمہوریت  کی بنیادیں  مضبوط  ہیں اور تمام  شہریوں اور طبقات  کے لیےء امید کی کرن  روشن ہے۔ حالیہ  3 ماہ میں  مہاراشٹرا     اور جھارکھنڈ   اسمبلی  انتخابات  میں بی جے پی  کو زبردست  جھٹگہ لگا ہے ۔ ظلم  و استبداد  کی سیاست  کو صدمہ  سے دوچار ہونا پڑا ۔ جھارکھنڈ  میں  قبائلیوں کو ہندوؤں میں شامل کرنے کے خلاف  زبردست  احتجاج  بلند  ہو ا تھا دوسرے ملک میں گاؤ  رکھشکوں  کے ہجومی  تشدد  میں سب سے زیادہ  ھلاک ہونے والوں کی  بڑی تعداد   بھی یہیں سے ہے۔ ایک  بے قصور  نوجوان  تبریز انصاری  کو کھمبے  سے  باندھ  کر جے شری رام  کے نعرہ    نہ لگانے پر بری  طرح زدوکوب  کر کے  ھلاک  کردیا گیا تھا۔ آج  ان معصوموں   کا خون رنگ لایا  اور اسمبلی  انتخابات  میں بی جے پی  کی تمام  تر کوششوں  ‘EVM ‘ کے الٹ پھیر  کے باوجود  بری طرح ناکامی  کا سامنا کرنا پڑا۔ خوش آئند بات یہ  ہیکہ  چیف منسٹر  ھیمنت سورین نے حکومت سنبھالتے ہی  سب سے پہلے  احتجاجیوں  کے خلاف درج   تمام  مقدمات  کو واپس  لےلیا    جو بی جے پی  حکومت  نے حراساں کرنے کیلےء زبردستی غیر قانونی  طور پر درج کئےء تھے۔ اسکے علاوہ   گاؤ رکھ شک ہجومی تشدد  مین ملوث  اصل قاطعوں کے مقدمات  کو دوبارہ کشادہ کردیا ۔

مہاراشٹرا میں ایک طویل  عرصے  سے بی جے پی  کے ساتھ  شریک  شیو سیناء  نے  حالیہ انتخابات  کے بعد اپنی  تائید واپس  لے لی جمہوریت کا ایک درخشاں پہلوNCP  کے قائد  شرد پوار  کے مضبوط  سیکیولر  کردار سے بھی سامنے آیا ہے جنہوں نے پیرانہ سالی میں بھی  بی جے پی کے خلاف  اکیلا تنہا ء لڑا ہے۔ایک سال میں بی جے پی  کو 5 ریاستی  انتخابات   میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ بی جے پی نے  303 نشتیں  پارلمنٹ  میں حاصل کیں ، غرور ، تکبّر  اور  مسلمانوں کے  دستور ہند کے سیکیولر کردار کے خلاف  اپنے اصلی  ایجنڈے  کے مطابق  بڑے  ہی تیزی سے من مانی  یک طرفہ   6  ماہ  میں ایک کے بعد دیگر  پے درپے  قوانین بناڈالے۔29 جولائی  2019تین طلاق ، 2 آگسٹ  UAPA  2019، 5 آگسٹ 2019 کشمیر  کے خصوصی موقف  کی بر خواستگی اسکے علاوہ   31 آگسٹ  2019  NRC  آسام کی  اجرائی۔9 نومبر 2019 کو  سپریم کورٹ کا بابری مسجد  پر انتہائی  افسوسناک  رام مندر کی تائید میں فیصلہ  سنایا گیا۔ اور 10 ڈسمبر 2019 کو  CAA  جیسے  معاندانہ   قوانین  منظور  کئے گئے۔

بی جے پی کی معاندانہ طوفانی قانون سازی  کے دوران  وزیر اعظم  مودی نے دنیا اور  بالخصوص  خلیجی ممالک  کی آنکھوں  میں دھول  جھونک  کر متحدہ  امارات  کا اعلی ترین  ایوارڈ  حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ۔  بی جے پی  زیادہ عرصہ تک اقوام  عالم  اور خود اپنی عوام کو جھوٹ بول  کر بے وقوف  بنانے میں  بہت زیادہ کامیاب نہیں  ہو سکے گی۔ اگر سنجیدگی سے ان تمام قوانین ، عدالتی فیصلوں  اور پالیسیوں  کا ہم  بغور  مطالعہ  کریں تو  یہ بات آسانی سےسمجھ میں آجائیگی کہ  یہ  جھوٹی  بے محل  توضیحات  اور لغوء من بھاتی  باتیں  کر کے  عوام  کو گمراہ  کر رہے ہیں۔ پہلے  قوانین  کا کراک ڈاؤن  پھر  احتجاجیوں پر فوج  اور پویس  کا کراک ڈاؤن  کیا گیا ہے۔

CAA  اور      NPR  کے خلاف  گاؤں گاؤں  میں پر امن  عوامی  احتجاج  مظاہروں  نے ملک کو دہلا دیا۔ اور احتجاجیوں کی گونج کو میڈیا  و سوشیل  میڈیا  پر دبانے  کی کوشش  کی  لیکن   دنیا کے کونے کونے میں  مذکورہ  مظالم  کے خلاف  آوازیں  سنی گئیں  اور دنیا  کے کئی بڑے شہروں  میں بھی ان ظالمانہ  قوانین  کے خلاف  احتجاج  آج بھی جاری ہے۔

آسام  کشمیر  ، یوپی، کرناٹک  اور  دیگر  بی جے پی ریاستوں  میں  پولس نے  پرامن احتجاجیوں  کے خلاف  جس ظلم  و بر بریت  کا مظاہرہ  کیا اس سے  انگریزوں کے  کئے گئے مظالم  بھی ماند پڑگئے۔ظالم وقت   چیف  منسٹر  آدتیا ناتھ یوگی کے ایک  اشارہ  پر  یوپی  پولس  نے منصوبہ بند  طریقے  پر مسلم گھروں  ، مدرسوں  ، مساجد  اور  کاروبار  ی مقامات  پر گھس گھس  جو توڑ پھوڑ  مچائی  اور نہتّے معصوم نوجوانوں  کے سینوں  میں گولیاں پیوست کردیں ۔ جسکی وجہ سے  20 سے زیادہ افراد ھلاک ہو گئے  جس میں معصوم بچّے بھی شامل ہیں  اسکے علاوہ  بزرگ  شہریوں ، عمر رسیدہ  اساتذہ  کو اٹھا کر  لے جا کر  تھرڈ ڈگری ٹارچر کیا گیا۔سینکڑوں لوگوں کی مار مار  کر ہڈّیاں  توڑدی گئیں ،۔بچّوں کے ساتھ جنسی زیادتیاں کی گئیں جس میں 100 سے زیادہ بچّے زخمی ہو چکے ہیں ۔ پھر بربریت کا عالم یہ ہیکہ  2 آگسٹ  2019 کو  جو  UAPA  قانون بنایا گیا  تھا اسکا پہلا استعمال  یوپی میں شروع کردیا گیا  اور احتجاجیوں    وہ  عام مسلم  شہریوں  کے املاک ضبط کرنے شروع کردئیے۔ اسمیں  چند غیر مسلم  سیکیولر  سماجی  جہد کاروں  کی جائیدادوں  کو  بھی ضبظ کرلیا گیا۔ جلسے جلوس  اور احتجاج  پر  ایک سیکیولر جمہوری ملک میں  کیا پولس اپنے  پر امن شہریوں کے خلاف  ھلاکت خیز  کراک ڈاؤن  کرنے کا  اختیار  رکھتی ہے؟ایسا محسوس ہوتا ہے ، اسرائیل  کے مظالم  کا ماڈل  دوہرایا  جا رہا ہے اور صدیوں پرانا   انتقام لیا جارہا ہے۔ یوپی پولس نے جائیدادوں  کی ضبطی کے لیےء جو  وجہ نمائی نوٹس جاری کیں  کثیر ہر جانے کا مطالبہ کیا  گیا ہے ،  انہیں 30 دن کا موقع دیا گیا ،  جب ہریانہ میں جاٹوں کے احتجاج میں  35 ہزار کروڑ  کے عوامی  املاک  کا نقصان ہوا تھا،کسی کو بھی اسطرح کی نوٹس نہیں  دی گئی تھی۔

سپریم کورٹ نے اپنے کئی فیصلوں میں یہ بات صراحت کے ساتھ  کہ دی ہیکہ عوامی احتجاج جمہوریت  کا ایک اہم  پہلو ہے۔ حکومت کے خلاف  اٹھائی جانے والی آواز  کو ملک سے بغاوت  کے نام پر  ہر گز  دبایا نہیں جا سکتا۔

جولائی 2019 میں جنرل راوت  نے کہا تھا  کہ جو پتھر اٹھائے گا  وہ گولی سے ماردیا جائیگا۔ دوسری بات  جھارکھنڈ  کے انتخابی جلسے  میں وزیر  اعظم  نریندر مودی  نے اپنی تقریر  میں  رکیک  حملہ  کرتے ہوئے  کہا تھا  کہ “گڑ بڑ کرنے اور تشدد پھیلانے   والوں  کو انکے  کپڑوں  سے پہچان سکتے ہو”

یہ دونون  باتیں  پولس نے عملی طور پر کر دکھائیں ۔ جتنے معصوم ھلاک  ہوئے  ہیں  ان میں سے اکثر  سفید کرتے پاجامے  میں  ملبوس تھے۔ اور جسنے بھی احتجاج کا نعرہ بلند کیا تھا وہ  لاٹھی  سے مارا گیا  یا وہ  گولی سے ھلاک کردیا گیا ۔دنیا نے مدرسے  کے معصوم طلباء کی  تڑپتی لاشیں بھی  دیکھیں۔ آج  غیر مسلم سیول سوسائیٹی  کے غیور  شہریوں  کا عوامی  احتجاج  ملک کے  طول و عرض میں  جاری ہے یہہی  اصل جمہوریت  کا ایک درخشاں پہلو  ہے۔

بدھسٹ قبائل   ، چکماء اور ہندو قبائل   Hajongs پناہ گزیں  50 ہزار سے زیادہ تعداد میں  ارونا چل پردیش  میں آباد ہیں  ، انہیں   CAA  کی منظوری سے قبل  ہی ہندوستان  کی شہریت دے دی گئی۔ روہنگیا  مسلمان جو  پڑوسی بدھسٹ  ملک برما میں مظالم کا شکار  ہو کر ہندوستان میں پناہ  لیےء ہوئے ہیں  انہیں  محض اسیلےء  شہریت  نہیں دی گئی  کہ وہ مسلمان ہیں ۔ CAA قانون  میں سوائے  مسلمان پناہ گزینوں  کے سب کو  شہریت  کا مستحق قرار دیا گیا  ہے۔ اور صدیوں سے  بسنے والوں کے  آبا و اجداد  کے تفصیلات  و کاغذات  پوچھے جا رہے ہیں ۔ آسام  میں کیا ہو ا ۔ یہ ہی تو ہوا کہ  ریکارڈ و کاغذات کے اندارجات   ایک دوسرے  سےمیل نہیں کھا رہے ہیں۔ لھذا  وہ بنگلہ دیشی شہری  قرار دیا جارہا ہے۔

ایک مرتبہ فارن ٹریبویونل  کو کیس حوالے  کرنے  کے بعد  متاثرہ  مظلوم  شہری کو پھر ملک کی کوئی  عدالت   راحت  دینے تیار نہیں ۔ عدلیہ کے تیور  جو گذشتہ دو سال سے  سامنے آئے ہیں وہ بڑے ہی تشویشناک ہیں  F.T  کے تمام  کیسس  کو ہائی کورٹ  پھر سپریم کورٹ  ہر اس   فیصلے  کو حق  بجانب  قرار دے رہا ہےجس میں کسی  بھی شخص کو  ایک مرتبہ  بنگلہ دیشی  قرارد  دے دیا گیا   اسے یا جیل میں سڑ کر مرنا ہے  یا پھر سر حد پر زبردستی ڈھکیل  دیا جائے گا۔

آسام  میں  NRC  کی حتمی فہرست کے بعد  جو بد ترین  حالات سے بنگالی مسلمان  دوچار  ہیں  اسکا اندازہ  کسی بھی ہندوستانی شہری  کو کرنا مشکل ہے۔ مصائب و مشکلات کے بادل پھٹ پڑے ہیں  ، 9 لاکھ  بنگالی  ہندؤں کو شہریت دینے کا بار بار  اعلان  ہو چکا ہے۔ اب جو 8 لاکھ  مسلمان بنگالیوں کو خارج  کردیا گیا ہے  اگر   انکے  افراد   خاندانوں کو  جوڑ لیں  تو یہ تعداد  18 لاکھ سے بھی تجاوز کر جائیگی۔  کہنے کو تو یہ کہا جا رہا ہے  کہ   یہ معاملہ  ہندو مسلم کا نہیں ہے  لیکن حقیقت  واقعہ  یہ ہیکہ لفظ مسلمان  کے ساتھ کوئی عدل و انصاف  اور رحم  کا معاملہ  نہیں کیا  جارہا  ہے۔ فارن  ٹربیونل کے ججس مسلمان  کا نام دیکھتے  ہی طیش میں آجاتے ہیں  اور بڑی حقارت سے پیش آتے ہیں  سب کچھ  اسنادات و لیگیسی  ڈاٹا ہونے کے باوجود  بنگلہ دیشی  قرار دینے  میں بڑی عجلت دکھا رہے ہیں ۔ ہندوستانی مسلمانوں کو   CAA  اور   NRC  کے تناظر میں   NPR  کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اب ملک  کا بچّہ بچّہ  جان چکا ہے کہ یہ ایک لامتناہی  سلطانی مصائب کا کبھی نہ ختم ہونے والا  سلسلہ ہے ۔ یاد رہے  RSS  کے پالیسی سازوں نے   NPR  کے خوبصورت قانونی نام کے تحت  ایک  زہر آلود جال  پھیلا دیا ہے  جس میں  غیر محسوس طریقے سے ہر ایک شہری  بآسانی  اس ٹراپ  میں پھنس  جائیگا، ہمار احساس یہ ہیکہ  جسطرح  سے بابری مسجد  کے مقدمہ  کو تیس سال تک  طوالت  دے کر  پھر مسلمانوں  کو وہی محرومی  کا سامنا  کرنا پڑا  ٹھیک  اسی طرح  سے  NPR  اور  NRC  کا ھلاکت خیز  چکّر  آئندہ آنے والی نسلوں  کو بھی تباہ  و برباد کر سکتا ہے ۔

آج  میانمار  روہنگیا  پر ،چین یغور پر اور اسرائیل   فلسطینویوں پر  بدستور  اپنے مظالم  جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دنیا  میں جتنے  بڑے بین الاقوامی  ادارے  اور عدالتیں ہیں  وہ بہت کم  مسلمانوں  کے سلسلہ  میں عدل  و انصاف  کے لیےء  اقدامات  کرتے ہیں ۔ ایک ہی  واحد حل  ہے۔  پر امن  جمہوری  عوامی احتجاج  کو لیل و نہار  جاری رہنا  چاہے۔ ہمیں  ہمار ے ملک میں  اب بھ اپنے مطالبات  منوانے کا پورا حق ہے ۔ دستوری جمہوری حقوق  سے اتنی جلدی  دست بردار  نہیں ہو نا چاہیےء۔

NRC,NPR, CAA کے خلاف  احتجاج  کو دبانے  کے لیےء  بی جے پی ایک جانب    ملک گیر سطح پر  تائیدی مہم  کا آغاز  کرچکی ہے  دوسری جانب  اس نے اپنے دلالوں  کو تمام  جماعتوں ، حلقوں  گروپوں  اور سیول  سوسائیٹی  میں چھوڑدیا ہے  جو  عوام کو احتجاج  نہ کرنے  کی ترغیب دے رہے ہیں ۔ جب تک  یہ سیاہ قوانین  واپس نہیں  لئے جاتے  طویل مدّت  تک احتجاج  پوری شدّت کے ساتھ جاری رہنا چاہیےء۔

(1)جامعہ ملّیہ  کی دو طالبات  نے 13 ڈسمبر  کو احتجاج  کے دوران  پولیس  کراک ڈاؤن  میں اپنے  ساتھی طالب علم  کو لاٹھیوں  سے بچانے کیلےء  ڈنڈے کھاتے ہوئے جو دلیرانہ  طور پر پولس کا مقابلہ کیا ۔

(2) اور اب شاہین  باغ  کی دادیوں  نے ضعیف العمری میں  جانلیوا  سخت ٹھنڈک  میں جوپختہ حوصلے  و عزم  کا  اظہار NDTV  پر  کیا ہے  اس سے ملک  دم بخود  ہے۔ آخر  اتنا  جذبہ  گھریلو خواتین میں کیسا پیدا  ہوگیا۔ جب ظلم  بڑھنے لگتا  ہے تو نہتّے ننگے بھوکے  غریب عوام  بھی اس وقت نبرد آزمائی کیلےء اٹھے کھڑے   ہو جاتے ہیں۔

(3)چندر شیکھر  آزاد  نے دلت بھائیوں کو مخاطب  کرتے ہوئے   NPR , CAA   کے خلاف  جو خط  جیل سے  بھیجا ہے وہ  سنہری الفاظ  میں لکھا  جانے والا  ہے  ۔ آزاد نے لکھا ہے  کہ آج یہ قانون  صرف  مسلمانوں  کے خلاف  نظر آرہا ہے  لیکن  کل باری دلت اور آدی واسیوں  کی آنیوالی ہے۔

RSS و بی جے پی  کی قیادت  کو ہوش سنبھالنے چاہیےء  کمزور  لوگ  ملک کے طول و عرض  میں پر امن احتجاج  میں شامل ہیں ۔  اسے پر  تشدّد  بتانے کی پھر پور کوشش  حکومت  کی جانب سے کی جارہی ہیں  جو سب ناکام ہوتی جارہی ہیں ۔ حکومت  کا خیال  ہے کہ امتحانات قریب ہیں امتحانات کے بعد  طلباء  اپنے ، اپنے گھروں  کو لوٹ جائیں گے  اور حالات  کو وہ اپنے مطابق موڑ سکیں گے۔ یہ بی جے پی کی خام خیالی ہے ۔ اس عوامی احتجاج میں  مرد خواتین  ، لڑکے لڑکیا ں  ہر عمر  کے غیور  باشعور تعلیم یافتہ  لوگ شامل  ہیں ۔ اس احتجاج کو دبانا   RSS  کو کافی مہنگا پڑسکتا ہے اور اسے کراری شکست سے دوچار کرسکتا ہے۔

عوام کا مطالبہ صرف اتنا ہےکہ   CAA  میں مسلمانوں کو بھی شامل کیا جائے  اور   NPR  کو بجائے  سیٹیزن شپ  ایکٹ  کے سنسس  مردم شماری  قانون کے تحت  کروایاجائے  ورنہ ملک  میں  اقلیتوں  کا بڑا  طبقہ  جسکے پاس  لگیسی ڈاٹا   یا تواتر کے ساتھ 5 کاغذات نہیں  ہے متاثر ہوگا  اور اپنی شناخت  و قومیت  کھودے گا۔ اس  سیاہ قانون  کے خلاف  احتجاج  اس وقت تک جاری رہنا چاہیےء  جب تک  اسے واپس نہیں لیا  جاتا۔

ختم شد


بشکریہ اعتمار  روزنامہ اردو حیدرآباد  تاریخ اشاعت  05/01/2020، مصنف کے مضامیں ہر ہفتہ ملک کے 20 سے زیادہ اخبارات  میں شا‏ئع  ہوتے رہتے ہیں


 

Summary

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here